Blog | FunStylers

| It’s kind of fun to do the impossible |

pakistan

وطن عزیز،بلاد اسلامیہ ، اسلام کا قلعہ پاکستان اسوقت جن گوناں گوں مسائل کا شکر ہے انکی فہرست بہت طویل ہے۔ ٹوٹتی بکھرتی معیشت ہو یا دن اور رات کا سکون چھینتا بجلی کا بحران، صوبوں میں جاری بغاوت کی لہر ہو یاسوات میں جاری لا یعنی فوجی آپریشن۔ان بحرانوں نے وطن عزیز کے باسیوں کے ذہن شل کر کے رکھ دیئے ہیں۔ پاکستان کے شہریوں کا ہر نیا دن اس امید کے ساتھ شروع ہوتا ہے کہ شاید آج کوئی معجزہ ہو انکی تقدیر پھر جائے۔ ملک میں امن و سکون ہوجائے، حمکمرانوں کی غیرت جاگ اٹھے، خوش حالی کا دور دوراہ ہو جائے۔ ۔ ۔ لیکن ہر غروب ہونے والا سورج یہی خبر دے کر جاتا ہے کہ ذلت اور مسکینت کے دن ابھی تمام نہیں ہوئے۔
لیکن ان تمام بحرانوں مئں سے سب سے بڑا بحران جس کے خوف سے عام شہری ہر وقت بے چین رہتے ہیں وہ ہے دہشت گردی کا عذاب۔

بلوچستان اور کاراچی میں جاری ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ہوں کہ جن میں اب تک جان بحق ہونے والوں کی تعداد سیکڑوں سے بڑھ کر ہزاروں میں داخل ہو چکی ہے یا صوبہ سرحد (پختونخواہ) میں جاری خانہ جنگی۔پنجاب اور سندھ کے علاقوں میں مجرمانہ بد امنی ہو یا تیزی سے بڑھتی صوبائیت کا زہر۔ ۔ ۔ رفتہ رفتہ یہ عذاب مملکت کی روح کو زنگ آلود کرتے جا رہے ہیں۔
آج ملک کے اکثر علاقوں میں ولدین اپنے بچوں کو باہر بھیجتے وقت ، مرد کام پر جاتے وقت اور مارکیٹ جانے والے مارکیٹ جاتے وقت ۔۔۔اس بات کا یقین نہیں رکھتے کہ واپس آ کر وہ اپنے پیاروں کی شکل دوبارہ دیکھ سکیں گے یا نہیں۔ ایک انجانا سا خؤف ہر وقت ذہنوں میں سوار رہتا ہیے۔ یہ ملک میں جاری دہشت گردی کے واقعات کا نتیجہ ہے۔

انہی حالات میں پاک ڈآٹ نیٹ کی جانت سے ایک مقابلہ کا اہتمام کروایا گیا ہے جس میں دہشت گردی کے تدارک پر مضمون لکھنے کو کہا گیا۔میں اس مقابلہ میں تو حصہ نہ لیا تاہم اس مقابلہ سے ہی میرے ذہن میں بات آئی کہ کیا پاکستان دہشت گردی کے اس بحران سے کبھی نکل سکتا ہے؟

تو بد قسمتی سے میں اس نقطہ نظر کا قائل ہو چکا ہوں کہ پاکستان موجودہحالات میں کبھی بھی اس بحران سے باہر نہیں نکل سکتا۔اس بات سے انکار نہیں کہ جب اللہ کسی کا بھلا کرنے پر آتا ہے تو سبھی حالات اس کی موافقت میں چلے جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ لیکن میں جس طرف اشارہ کر رہا ہوں وہ یہ ہے کہ پاکستان موجودہ حالات میں اس بحران سے نہیں نمٹ سکتا۔اس سلسلہ میں میری مندرجہ ذیل نگارشات ہیں۔

بیرونی مداخلت:
تسلیم کہ پاکستان میں دہشت گردی کی اصل وجہ بیرونی مداخلت ہے۔اور اس مداخلت کے سرغنہ بھارت اور امریکہ ہیں۔ اور یہ مشورہ بھی تسلیم کہ اگر انکو آنکھٰن دکھا دی جایئں تو بھارت تو آرام سے سیدا ہو سکتاہے۔ مگر یہ بھی تو سوچیے کہ اس مشورے پر عمل کس نے کرنا ہے؟ آف کورس حکمرانوں نے۔ اور حکمران طبقہ کا حال یہ ہے کہ پاکستان توڑنے کے بنیادی ذمہ دار ملک بھارت کو کہتے ہیں کہ بھارت پاکستان کے لیئے کبھی خطرہ نہیں رہا۔وہ حکمران جو کشمیر کا تزکرہ زبان پر لاتے ہوئے ڈرتے ہیں؟ وہ حکمران جو بلوچستان اور فاٹا میں بھارتی مداخلت کا ثبوت رکھنے کے باوجود عالمی محاذ پر کوئی جارحانہ کاروائی نہیں کر سکتے؟ وہی حکمران جو بلوچوں کو(بگٹی) تو میزائل سے مار دیتے ہیں کہ باغی ہیں لیکن ان کے سرپرست (بقول انکے) بھارت کو گلے لگاتے ہیں اور انکے لیے دیدا دل فراش کرتے ہیں؟ وہ حکمران جو بھارت کو اپنے حصے کا پانی چھیننے پر کوئی سخت لہجہ اختیار نہ کر سکے اور اپنے زرخیز میدانوں کو صحرا بنا بیٹھے؟
وہی حکمران جن کی اولادیں امریکہ و برطانیہ میں رہتی ہیں اور یہ ملک محض انکی کمائی کا ذریعہ ہے؟ معاف کیجیے اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ان حکمرانوں کو کشورہ دینے سے اگر کوئی اچھائی بر آمد ہو سکتی ہوتی تو یہ مسائل ہی پیدا نہ ہوتے۔
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ رحمان ملک کہ جس کا سارا زور عوام کو ذلیل کرنے پر ہے وہ بیرونی مداخلت پر کسی قسم کا کوئی آبرو مندانہ کام کر سکتا ہے؟ جناب وہ لوگ اور تھے جو یہ کام کیا کرتے تھے۔فی زمانہ غیرت رکھنے والے لوگ بعوقوف کہلاتے ہیں۔بے شک ملک ختم ہو جائے لیکن ۔۔۔۔

پاکستان کے عوام:
دوسری وجہ جس کی بنیاد پر مجھے یقین ہے کہ پاکستان کبھی ھی ان بحرانوں سے نہیں نکل سکتا وہ خود پاکستان کے عوام ہیں۔ معذرت کے ساتھ۔لیکن اس عوام میں میں خود بھی شامل ہوں۔
گزشتہ دنوں ایکسپریس ٹی وی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی لیڈر فوزیہ وہاب نے کہا تھا کہ ہمارے ملک کے عوام بیوقوف ہیں۔ بعد میں وہ شرمندہ ہو تو رہی تھیں لیکن سچ ان کے منہ سے نکل ہی گیا تھا ۔ مجھے اس بات پر یقین ہے کہ پاکستان کے عوام بیوقوف ہیں۔
1988 سے 1999 تک دو پارٹیز کو بار بار آزما لینے کے باوجود اس ملک کے عوام نے محض بے نظیر بھٹو کے قتل پر جذباتی ہو کر انہی دو پارٹیوں کو دوبارہ ووٹ دے دیے۔ کوئی اس عوام سے پوچھے کہ مومن ایک سوروخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا ۔۔۔۔آپ کیوں بار بار اسی سوراخ سے ڈسے جا رہے ہو؟ کیا ملک میں ان دو پارٹیز کے علاوہ کوئی شخص زندہ نہیں؟ کیا آپ تک ان پارٹیز کے سربراہوں کی بیرون ملک اربوں ڈالرز دولت کی کوئی خبر نہیں پہنچی؟ِ کیا آپکو ان کے گزشتہ دس سال کے دوران کے بیانات پھر سے بھول گئے کہ جو یہ لوگ دہلی اور واشنگٹن جا جا کر دیتے رہے؟ در حقیقت اس ملک کی لٹیا دبونے میں جتنا ہاتھ کرپٹ لوگوں کا ہے اتنا ہی پاکستان کے عوام کا بھی ہے۔ واقعی جو شخص اچھی تقریر کر لیتا ہے وہ ووٹ بھی لے جاتا ہے۔

ملک کے عوام 2:
اس ملک کے عوام کو میں دوبارہ ذمہ دارٹھہراوں گا ان بحرانوں کا۔اگر آج ہماری عوام کو بجلی پوری کر دی جائے، اور کھانے پینے میں کوئی مسئلہ نہ آئے تو ہماری کوشش پاکستان کے لیے محض نشتند،گفتند،برخاستند تک محدود ہو جائے گی۔بلکہ اکثر تو یہ کہنے لگ پڑتے ہیں کہ جانے دو یار کس ملک میں ایسانہیں ہو رہا۔ چلو فلم دیکھیں۔ہماری عوام کی اکثریت ملک کے لیے محض باتوں کی حد تک مخلص ہے۔ اگر ان سے کہا جائے کہ کوئی عملی کام کر کے دکھا دو تو ادھر ادھر کی باتیں شروع ہو جاتی ہیں۔

بیوروکریسی:
ہمارے ملک میں جس کو کوئی عہدہ مل جاتا ہے وہ فرعون بن جاتا ہے۔اب وہ عہدہ وزارت کا ہو یا واپڈا کے دفتر میں ایس ڈی او کا۔ گزشتہ دنوں مجھے گھر کے میٹر کے لیے بار بار واپڈا کے دفتر چکر لگانا پڑے تومجھے اس بات کا اندازہ ہوا کہ محض ہمارے وزرا ہی اس ملک کے فرعوں نہیں بلکہ سرکاری افسروں کی اکثریت بھی فرعون سے کم نہیں۔ ایک بزرگ جن کی عمر کم از کم بھی 70 سال ہو گی وہ بھی کئی سن سے دکھے کھا رہے تھے۔انکا بل 675 روپ کا تھا لیکن ٹوٹل اسکا 7650روپے بنا دیا گیا۔ اس بیچارے نے کہا کہ ٹھیک کر دو تو میں غریب بندا ہوں ۔ ۔ ۔ میری تو مہنے کی آمدنی اتنی نہیں۔ تو پہلے تو اسکو خوب چکر لگوائے گئے پھر کہا گیا کہ پورا جمع کروانا پڑے گا۔ جب اس نے پھر منت کی تو وہ فرعون صفت شخص جس کو عوام کے لیے اس عہدہ پر بٹھایا گیا تھا اس نے اپنے لائن مین کو بولا کہ اس کو نکالو باہر اور جا کر ابھی اس کا میٹر اتار کر لے آع پھر اس بابے کو عقل آئے گی۔ میں اس کے لہجے میں چھپی فرعونیت دیکھ دیکھ کر حیران ہو رہا تھا کہ محض سترہویں گریڈ کا آفیسر اور لہجہ۔ ۔ ۔اس بزرگ نے صرف یہی کہا کہ “تہانوں ہن طالبان ای ٹھیک کر سکدے نے”” یعنی تم لوگوں کو صرف طالبان ہی ٹھیک کر سکتے ہیں”” ۔ یہ صرف ایک مثال ہے ورنہ سرکاری افسروں کی اکثریت اسی طرح کے فرعوں کی ہے۔نہ جانے وہ کوں نیک دل لوگ ہیں جن کی وجہ سے یہ ملک بچا ہوا ہے۔

خلوص کا فقدان:
پورے ملک میں اس وقت خلوص کا فقدان ہے۔ ہر کوئی ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچ رہا ہے۔ پیپلز پارٹی اگر کھل کر عوام کو ذلیل کرنے پر تلی ہوئی ہے تو مسلم لیگ نے بھی کمی نہیں کی ہوئی۔ مسلم لیگ کے ارکان اسمبلی میں حکومت کی تائید کرتے ہیں اور اس کی قرار دادیں اور تیکسز پاس کروا دیتے ہیں اور باہر آ کر اسکی مخالفت کرتے ہیں۔ اس کو جمہوریت کو مضبوط کرنا نہیں ۔ ۔ ۔ بلکہ منافقت کہتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کو یہ ملک ٹھیکے پر نہیں دے دیا گیا کہ اسمبلی میں اسکی مخالفت نہ کی جائے۔ دوسری طرف ایم کیو ایم نے الگ طوفان برپا کر رکھا ہے۔ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اسی کے کارکنوں کو ملوث بتایا جاتا ہے۔لیکن طالبان کے معاملہ پر شور مچانے والے اس سلسلہ میں پراسرار خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

اسلامی نظام کا نہ ہونا:
مملکت خداداد پاکستان ۔ ۔ ۔ اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا۔ آج اگر کوئی اٹھھ کر کہہ دے کہ پاکستان کے قیام کا مقصد محض سیکولر ریاست کا قیام تھا تو پھر بھارت اور پاکستان میں فرق کیا ہوا؟ اسی لیے پاکستان میں اسلامی نظام کے علاوہ کوئی اور نظام چل بھی نہیں سکتا۔اور اگر چلے گا بھی تو ایسا ہی لولا لنگڑا جیسے اب تک پاکستان چلتا آیا ہے۔ پاکستان کبھی بھی فلاحی ریاست نہیں بن پائے گا۔ مسلمان قوم جس کے علحدہ تشخص کی بنیار پر یہ ملک حاصل کیا گیا اسکی ترکیب ہیت ہی کچھ ایسی ہے کہ اسلامی مملکت میں غیر اسلامی قوانین کی موجودگی میں ہمیشہ ٹینشن کا شکار رہے گی۔ اسی بات کو حضرت اقبال نے ان الفاظ میں کہا ہے کہ
”اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب پر نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسولِ ہاشمی”
تو اس ملک میں جب تک اسلامی شریعت نافض نہیں ہو جاتی تب تک اس ملک میں امنو سکون آنا ممکن نہیں۔چنانچہ آج اگر اس ملک میں بھارت و امریکہ مداخلت کرنا بند کر بھی دیں ۔ ۔ ۔ تب بھی ہمارے اندر اس قدر خرابیاں جنم لے چکی ہیں جو اسلام کے بغیر ہم کو سکون سے رہنے نہ دیں گی/
اقبال فرماتے ہیں کہ
”دامن دین ہاتھ سے چھوٹا تو جمعیت کہاں
اور جمعیت ہوئی رخصت تو ملت بھی گئی”
یعنی اگر دین سے کنارہ کشی کی تو اتحاد گیا اور اگر اتحاد گیا تو ملت اسلامیہ کا وجود تار تار ہو جائے گا۔ اور بدقسمتی سے اس ملک کے شہری باوجود حکمرانوں کی کھلی کرپشن کے انکو دوبارہ ووٹ تو دے دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔لیکن نظام کی تبدیلی کی کسی کوشش کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیتے۔

چناچہ میں پھر سے کہتا ہوں کہ جب تک یہ وجوہات موجود ہیں تب تک ہم اس ملک میں امن س سکون کو وجود نہیں دیکھ سکیں گے۔میں یہ بھی امید کرتا ہوں کہ اس وقت سے پہلے کہ جب کاتب تقدیر ہمارا فیصلہ لکھ رہا ہو گا ۔ ۔ ۔ ۔ہماری قوم کو ہوش آ جائےگا اور ہم کسی بھی بھیانک فیصلے سے بچ جائیں گے

One Response to “پاکستان دہشت گردی کے بحران سے کبھی نجات حاصل نہ کر سکے گا”

  1. tfreak says:

    wow amazing

Leave a Reply

    SEO Powered by Platinum SEO from Techblissonline